موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الجماعة— کتاب: باجماعت نماز کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ باب: عشاء اور صبح کی جماعت کی فضیلت کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَرَأَى أَهْلَ الْمَسْجِدِ قَلِيلًا ، فَاضْطَجَعَ فِي مُؤَخَّرِ الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ النَّاسَ أَنْ يَكْثُرُوا ، فَأَتَاهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ مَنْ هُوَ ؟ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : " مَنْ شَهِدَ الْعِشَاءَ فَكَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ لَيْلَةٍ ، وَمَنْ شَهِدَ الصُّبْحَ فَكَأَنَّمَا قَامَ لَيْلَةً " عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نمازِ عشا کے لیے مسجد میں آئے تو دیکھا کہ لوگ کم ہیں، تو مسجد کے اخیر میں لوگوں کے جمع ہونے کے انتظار میں لیٹ گئے تاکہ لوگ زیادہ ہو جائیں، پس ابن ابی عمرہ آئے اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھ گئے۔ پس سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ ابن ابی عمرہ نے ان کو اپنا نام بتایا تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ تم کو کتنا قرآن یاد ہے؟ تو ابن ابی عمرہ نے ان کو بتایا، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا کہ جو شخص عشا کی نماز میں حاضر ہو تو گویا اس نے آدھی رات عبادت کی، اور جو صبح کی جماعت میں حاضر ہو تو گویا اس نے ساری رات عبادت کی۔