موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الجماعة— کتاب: باجماعت نماز کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ باب: عشاء اور صبح کی جماعت کی فضیلت کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ إِذْ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيقِ ، فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " . وَقَالَ: " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ: الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . وَقَالَ: " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص جا رہا تھا راستے میں اس نے ایک کانٹا پایا تو اس کو ہٹادیا، پس اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوگیا اور اس کو بخش دیا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ قسم کے لوگ شہید ہیں: جو طاعون (ایک پھوڑا بغل میں ہوتا ہے) سے مر جائے، یا دستوں سے مر جائے، یا ڈوب کر مر جائے، یا مکان سے گر کر مر جائے، یا اللہ جل جلالہُ کی راہ میں شہید ہوجائے۔“ اور یہ بھی فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ : ”اگر لوگ اس ثواب کو جان لیں جو اذان اور صفِ اوّل میں ہے، پھر اس میں قرعہ نہ پائیں تو البتہ وہ قرعہ اندازی کریں اس پر، اور اگر لوگ جان لیں کہ اوّل وقت میں نماز پڑھنے کا کیا ثواب ہے تو البتہ اس پر جلدی کریں، اور اگر جان لیں جو کچھ ثواب ہے عشاء اور صبح کی جماعت میں حاضر ہونے کا تو البتہ وہ گھٹنوں اور کہنیوں کے بل پر گھسٹتے ہوئے آئیں۔“