حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرُبْ مَسَاجِدَنَا ، يُؤْذِينَا بِرِيحِ الثُّومِ "
علامہ وحید الزماں

سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس درخت (یعنی لہسن میں سے) کھایا تو نزدیک نہ ہو ہماری مسجدوں کے، تاکہ ہم کو تکلیف دے اس کی بو سے۔“

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 29
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم :563، وابن ماجه فى «سننه» برقم : 1015، وأحمد فى «مسنده» برقم : 429، شركة الحروف نمبر: 27، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 30»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اس درخت (یعنی لہسن میں سے) کھایا تو نزدیک نہ ہو ہماری مسجدوں کے، تاکہ ہم کو تکلیف دے اس کی بو سے۔ [موطا امام مالك: 29]
فائدہ:

کچا لہسن، کچا پیاز نیز ہر بدبودار مہک والی چیز مثلاً مولی، گندنا، اور سگریٹ، حقہ وغیرہ استعمال کر کے مسجد میں آنا ممنوع ہے، کیونکہ مساجد فرشتوں کی آماجگاہ ہوتی ہیں اور فرشتوں کو بدبو سے سخت نفرت ہے، نیز نمازیوں کو بھی ان کی مہک سے تکلیف پہنچتی ہے۔ [صحيح مسلم: 584]

اس لیے عام معمول میں بھی ان چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اگر پکا کر (یا کسی اور طریقے سے) ان کی بدبو کو مکمل طور پرختم کر دیا جائے تو پھر انھیں کھانے کی اجازت ہے۔ [ابو داود: 3827، اس كي سند صحيح هے]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 29 سے ماخوذ ہے۔