موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
بَابُ النَّهْيِ عَنْ دُخُولِ الْمَسْجِدِ بِرِيحِ الثُّومِ وَتَغْطِيَةِ الْفَمِ فِي الصَّلَاةِ باب: مسجد میں لہسن کھا کر جانے کی ممانعت اور نماز میں منہ ڈھانپنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرُبْ مَسَاجِدَنَا ، يُؤْذِينَا بِرِيحِ الثُّومِ " علامہ وحید الزماں
سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس درخت (یعنی لہسن میں سے) کھایا تو نزدیک نہ ہو ہماری مسجدوں کے، تاکہ ہم کو تکلیف دے اس کی بو سے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا سعید بن مسیّب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اس درخت (یعنی لہسن میں سے) کھایا تو نزدیک نہ ہو ہماری مسجدوں کے، تاکہ ہم کو تکلیف دے اس کی بو سے۔“ [موطا امام مالك: 29]
فائدہ:
کچا لہسن، کچا پیاز نیز ہر بدبودار مہک والی چیز مثلاً مولی، گندنا، اور سگریٹ، حقہ وغیرہ استعمال کر کے مسجد میں آنا ممنوع ہے، کیونکہ مساجد فرشتوں کی آماجگاہ ہوتی ہیں اور فرشتوں کو بدبو سے سخت نفرت ہے، نیز نمازیوں کو بھی ان کی مہک سے تکلیف پہنچتی ہے۔ [صحيح مسلم: 584]
اس لیے عام معمول میں بھی ان چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اگر پکا کر (یا کسی اور طریقے سے) ان کی بدبو کو مکمل طور پرختم کر دیا جائے تو پھر انھیں کھانے کی اجازت ہے۔ [ابو داود: 3827، اس كي سند صحيح هے]
کچا لہسن، کچا پیاز نیز ہر بدبودار مہک والی چیز مثلاً مولی، گندنا، اور سگریٹ، حقہ وغیرہ استعمال کر کے مسجد میں آنا ممنوع ہے، کیونکہ مساجد فرشتوں کی آماجگاہ ہوتی ہیں اور فرشتوں کو بدبو سے سخت نفرت ہے، نیز نمازیوں کو بھی ان کی مہک سے تکلیف پہنچتی ہے۔ [صحيح مسلم: 584]
اس لیے عام معمول میں بھی ان چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اگر پکا کر (یا کسی اور طریقے سے) ان کی بدبو کو مکمل طور پرختم کر دیا جائے تو پھر انھیں کھانے کی اجازت ہے۔ [ابو داود: 3827، اس كي سند صحيح هے]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 29 سے ماخوذ ہے۔