موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الليل— کتاب: صلاۃ اللیل کے بیان میں
بَابُ الْوِتْرِ بَعْدَ الْفَجْرِ باب: فجر کے بعد وتر پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 281
وَحَدَّثَنِي مَالِك ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ : " إِنِّي لَأُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ " . قَالَ مَالِك : وَإِنَّمَا يُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَتَعَمَّدَ ذَلِكَ حَتَّى يَضَعَ وِتْرَهُ بَعْدَ الْفَجْرِعلامہ وحید الزماں
حضرت عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے باپ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں فجر ہوجانے کے بعد وتر پڑھتا ہوں۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: بعد فجر ہو جانے کے وہ شخص وتر پڑھے جو سو گیا ہو اور وتر نہ پڑھا ہو، لیکن کسی شخص کو یہ بات درست نہیں کہ وہ قصداً وتر بعد فجر ہو جانے کے پڑھے۔