موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب صلاة الليل— کتاب: صلاۃ اللیل کے بیان میں
بَابُ الْوِتْرِ بَعْدَ الْفَجْرِ باب: فجر کے بعد وتر پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 276
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَقَدَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ لِخَادِمِهِ : " انْظُرْ مَا صَنَعَ النَّاسُ ؟ " وَهُوَ يَوْمَئِذٍ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَذَهَبَ الْخَادِمُ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : قَدِ انْصَرَفَ النَّاسُ مِنَ الصُّبْحِ ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَأَوْتَرَ ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ علامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سو رہے تھے، پھر وہ جاگے تو اپنے خادم سے کہا: دیکھو! لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اور ان دنوں میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی بصارت جاتی رہی تھی، سو خادم گیا پھر آیا اور کہا: لوگ صبح کی نماز پڑھ چکے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کھڑے ہوئے اور وتر پڑھی، پھر صبح کی نماز پڑھی۔