موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة في رمضان— کتاب: ر مضان میں تراویح کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ باب: قیام ر مضان کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِهِ الرَّهْطُ ، فَقَالَ عُمَرُ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَانِي لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلَاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ ، لَكَانَ أَمْثَلَ " فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ لَيْلَةً أُخْرَى وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ قَارِئِهِمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : " نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ وَالَّتِي تَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُومُونَ " يَعْنِي آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رمضان میں مسجد کے لئے نکلا تو دیکھا کہ لوگ جدا جدا متفرق ہیں۔ کسی شخص کے ساتھ آٹھ دس آدمی پڑھ رہے ہیں، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے لگتا ہے کہ اگر میں ان سب کو ایک قاری کے پیچھے جمع کردوں تو بہت اچھا ہو۔ پھر اُنہوں نے ان سب کو سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے جمع کر دیا۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ پھر میں دوسری رات اُن کے ساتھ آیا تو دیکھا کہ سب لوگ سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، تب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ اچھی بدعت ہے اور جس وقت تم سوتے ہو (یعنی اخیر رات) وہ بہتر ہے اس وقت سے جب نماز پڑھتے ہو، یعنی اوّل رات سے۔ اور لوگ اوّل رات میں کھڑے ہوتے تھے۔