موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة في رمضان— کتاب: ر مضان میں تراویح کے بیان میں
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الصَّلَاةِ فِي رَمَضَانَ باب: ر مضان میں تراویح پڑھنے کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَ بِعَزِيمَةٍ ، فَيَقُولُ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ ، وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو راتوں میں تراویح پڑھنے کی ترغیب دلاتے تھے، اور بطورِ واجب کے حکم نہ فرماتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس نے رمضان میں تراویح پڑھی اس کو حق سمجھ کر خالص اللہ کے لئے، تو اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔“ ابن شہاب فرماتے ہیں کہ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور ایسا ہی حال رہا، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی یہی حال رہا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے اولین دور میں بھی۔