موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجمعة— کتاب: جمعہ کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً يَوْمَ الْجُمُعَةِ باب: جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت جمعہ کی پائی اس کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى " . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : " وَهِيَ السُّنَّةُ " ابن شہاب سے روایت ہے، وہ کہتے تھے کہ جو شخص جمعہ کی نماز کی ایک رکعت پائے تو وہ ایک رکعت اور پڑھ لے یہی سنت ہے۔
قَالَ مَالِك : وَعَلَى ذَلِكَ أَدْرَكْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ "امام مالک رحمہ نے فرمایا: ہم نے اپنے شہر کے عالموں کو اسی قول پر پایا اور دلیل اس کی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایک رکعت نماز میں سے پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی۔“
قَالَ مَالِك فِي الَّذِي يُصِيبُهُ زِحَامٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيَرْكَعُ ، وَلَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَسْجُدَ حَتَّى يَقُومَ الْإِمَامُ ، أَوْ يَفْرُغَ الْإِمَامُ مِنْ صَلَاتِهِ : " أَنَّهُ إِنْ قَدَرَ عَلَى أَنْ يَسْجُدَ إِنْ كَانَ قَدْ رَكَعَ فَلْيَسْجُدْ إِذَا قَامَ النَّاسُ ، وَإِنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى أَنْ يَسْجُدَ حَتَّى يَفْرُغَ الْإِمَامُ مِنْ صَلَاتِهِ ، فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَبْتَدِئَ صَلَاتَهُ ظُهْرًا أَرْبَعًاامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر جمعہ کے دن آدمیوں کا ہجوم ہو اور کسی شخص کو رکوع کرنا ممکن ہو لیکن سجدہ نہ کرسکتا ہو جب تک امام سجدے سے نہ اُٹھے، یا اپنی نماز سے فارغ نہ ہو تو اگر اس شخص نے سجدہ کر لیا جب لوگ اُٹھے سجدے سے فبہا، ورنہ اگر سجدہ نہ کر سکا یہاں تک کہ لوگ فارغ ہوگئے نماز سے تو اس کو چاہیے کہ نئے سرے سے ظہر کی چار رکعتیں پڑھے۔
قَالَ مَالِكٌ: مَنْ رَعَفَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَخَرَجَ فَلَمْ يَرْجِعْ، حَتَّى فَرَغَ الْإِمَامُ مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّهُ يُصَلِّي أَرْبَعًا.امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص کی ناک سے خون بہنے لگے جمعہ کے دن اور امام خطبہ پڑھتا ہو اور وہ باہر چلا جائے، پھر جب امام فارغ ہو جائے نماز سے تو لوٹ کر آئے، وہ چار رکعتیں ظہر کی پڑھے۔
قَالَ مَالِكٌ: فِي الَّذِي يَرْكَعُ رَكْعَةً مَعَ الْإِمَامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ يَرْعُفُ فَيَخْرُجُ فَيَأْتِي وَقَدْ صَلَّى الْإِمَامُ الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا أَنَّهُ يَبْنِي بِرَكْعَةٍ أُخْرَى مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ.امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص نے ایک رکعت پڑھی امام کے ساتھ جمعہ کی، پھر اس کی ناک سے خون بہنے لگا تو وہ باہر چلا گیا، اب جب امام دونوں رکعتیں پڑھ چکا تو لوٹ کر آیا تو وہ ایک رکعت پڑھ لے اگر اس نے بات نہ کی ہو۔
قَالَ مَالِكٌ: لَيْسَ عَلَى مَنْ رَعَفَ، أَوْ أَصَابَهُ أَمْرٌ لَا بُدَّ لَهُ مِنَ الْخُرُوجِ، أَنْ يَسْتَأْذِنَ الْإِمَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ.امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس شخص کی ناک سے خون بہنے لگے یا اور کوئی امر ایسا لاحق ہو کہ نکلنے کی ضرورت واقع ہو تو امام سے اجازت لینا ضروری نہیں۔