موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجمعة— کتاب: جمعہ کے بیان میں
بَابُ الْعَمَلِ فِي غُسْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن غسل کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جمعہ کو آئے تو غسل کر کے آئے، یا جو شخص نمازِ جمعہ کا ارادہ کرے تو غسل کرے۔“
قَالَ مَالِك : مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلَ نَهَارِهِ وَهُوَ يُرِيدُ بِذَلِكَ غُسْلَ الْجُمُعَةِ ، فَإِنَّ ذَلِكَ الْغُسْلَ لَا يَجْزِي عَنْهُ حَتَّى يَغْتَسِلَ لِرَوَاحِهِ ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ "امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے غسل کر لیا جمعہ کے روز صبح کے وقت اور نیت کی اس نے غسلِ جمعہ کی تو یہ غسل کافی نہ ہوگا یہاں تک کہ غسل کرے نماز کو جاتے وقت کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے نمازِ جمعہ کا ارادہ کرے تو غسل کرے۔“
قَالَ مَالِك : وَمَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مُعَجِّلًا أَوْ مُؤَخِّرًا وَهُوَ يَنْوِي بِذَلِكَ غُسْلَ الْجُمُعَةِ ، فَأَصَابَهُ مَا يَنْقُضُ وُضُوءَهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا الْوُضُوءُ ، وَغُسْلُهُ ذَلِكَ مُجْزِئٌ عَنْهُامام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص غسل کرے جمعہ کے دن جلدی یا دیر سے اور نیت کرے غسلِ جمعہ کی پھر ٹوٹ جائے وضو اس کا تو وضو کرے اور غسل کافی ہو جائے گا۔