موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجمعة— کتاب: جمعہ کے بیان میں
بَابُ الْعَمَلِ فِي غُسْلِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن غسل کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ ؟ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، انْقَلَبْتُ مِنَ السُّوقِ فَسَمِعْتُ النِّدَاءَ ، فَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ " حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں آئے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خطبہ پڑھ رہے تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے: ”کیا وقت ہے یہ آنے کا؟“ اس شخص نے جواب دیا: میں بازار سے پھرا تو میں نے اذان سنی، پس میں نے وضو کیا اور چلا آیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ دوسرا قصور ہے تم نے صرف وضو کیا، حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کا حکم فرماتے تھے۔