موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے بیان میں
بَابُ إِتْمَامِ الْمُصَلِّي مَا ذَكَرَ إِذَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ باب: جب نمازی کو شک ہو جائے تو اپنی یاد پر نماز تمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 211
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى أَثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْيُصَلِّي رَكْعَةً وَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ، فَإِنْ كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِهَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ ، وَإِنْ كَانَتْ رَابِعَةً فَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمٌ لِلشَّيْطَانِ " علامہ وحید الزماں
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شک ہو تم میں سے کسی کو نماز میں تو نہ یاد رہے اُس کو کہ تین رکعتیں پڑھیں ہیں یا چار، تو چاہیے کہ ایک رکعت اور پڑھ لے اور دو سجدے کرے قبل سلام کے، پھر اگر یہ رکعت جو اس نے پڑھی ہے درحقیقت پانچویں ہوگی تو ان سجدوں سے مل کر ایک دوگانہ ہو جائے گا اور اگر چوتھی ہوگی تو ان سجدوں سے ذلّت ہوگی شیطان کو۔“