موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے بیان میں
بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ سَاهِيًا باب: جس شخص نے دو رکعتیں پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دیا اُس کا بیان
حدیث نمبر: 210
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مِثْلَ ذَلِكَ . ¤ قَالَ مَالِك : كُلُّ سَهْوٍ كَانَ نُقْصَانًا مِنَ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ سُجُودَهُ قَبْلَ السَّلَامِ ، وَكُلُّ سَهْوٍ كَانَ زِيَادَةً فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ سُجُودَهُ بَعْدَ السَّلَامِعلامہ وحید الزماں
حضرت سعید بن مسیّب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نماز میں بھولنا دو طرح کا ہوتا ہے، ایک یہ کہ بھولے سے نماز میں کچھ نقصان ہو جائے تو سجدہ سہو قبل سلام سے کرے، دوسرے یہ کہ بھولے سے نماز میں کچھ زیادہ کر دے تو سجدہ سہو بعد سلام کے کرے۔