موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے بیان میں
بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ سَاهِيًا باب: جس شخص نے دو رکعتیں پڑھ کر بھولے سے سلام پھیر دیا اُس کا بیان
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ بَعْضُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَمَّ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ ، وَهُوَ جَالِسٌ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تو سلام پھیر دیا دو رکعتیں پڑھ کر، پس کھڑا ہوا ذوالیدین اور کہا: کیا نماز کم ہوگئی یا بھول گئے آپ اے رسول اللہ کے؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”کوئی بات نہیں ہوئی۔“ ذوالیدین نے کہا: کچھ تو ہوا ہے اے رسول اللہ کے! پس متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر اور کہا: ”کیا ذوالیدین سچ کہتا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ پس اُ ٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام کیا جس قدر نماز باقی تھی پھر دو سجدے کیے بعد سلام کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے۔