موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے بیان میں
بَابُ التَّشَهُّدِ فِي الصَّلَاةِ باب: تشہد کا بیان
حدیث نمبر: 205
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ ، وَنَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ مَعَ الْإِمَامِ فِي الصَّلَاةِ ، وَقَدْ سَبَقَهُ الْإِمَامُ بِرَكْعَةٍ . أَيَتَشَهَّدُ مَعَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ وَالْأَرْبَعِ ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ لَهُ وِتْرًا ؟ فَقَالَا : " لِيَتَشَهَّدْ مَعَهُ " . ¤ قَالَ مَالِك : وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَاعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب زہری اور نافع مولیٰ ابن عمر سے پوچھا کہ ایک شخص امام کے ساتھ آکر شریک ہوا جب ایک رکعت ہو چکی تھی، اب وہ امام کے ساتھ تشہد پڑھے قعدہ اولیٰ اور قعدہ اخیر میں یا نہ پڑھے؟ کیونکہ اس کی تو ایک رکعت ہوئی قعدہ اولیٰ میں اور تین رکعات ہوئیں قعدہ اخیر میں؟ تو جواب دیا دونوں نے کہ ہاں تشہد پڑھے ۔
امام کے ساتھ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔