موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے بیان میں
بَابُ تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ باب: سورۂ فاتحہ جہری نماز میں امام کے پیچھے نہ پڑھنے کا بیان
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، فَقَالَ : " هَلْ قَرَأَ مَعِي مِنْكُمْ أَحَدٌ آنِفًا ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ ، أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَقُولُ : مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ " . فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ ، حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے ایک نماز جہری سے پھر فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ کلام اللہ پڑھا تھا۔“ ایک شخص بول اُٹھا کہ ہاں میں نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جب ہی میں کہتا تھا اپنے دل میں کیا ہوا ہے مجھ کو چھینا جاتا ہے مجھ سے کلام اللہ۔“ کہا ابن شہاب نے یا سیدنا ابوہریرہرضی اللہ عنہ نے: تب لوگوں نے موقوف کیا قرأت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جہری میں، جب سے یہ حدیث سنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔