حدیث نمبر: 19
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يَقُولُ : " دُلُوكُ الشَّمْسِ ، إِذَا فَاءَ الْفَيْءُ وَغَسَقُ اللَّيْلِ اجْتِمَاعُ اللَّيْلِ وَظُلْمَتُهُ "
علامہ وحید الزماں

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ «دلوك الشمّس» جب ہوتا ہے کہ سایہ پلٹے پچھّم سے پورب کو، اور «غسق الليل» رات کا گزرنا اور اندھیرا اس کا۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 19
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 19 والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1709، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6329، شركة الحروف نمبر: 17، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 20» شیخ سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ یہ روایت موقوف ضعیف ہے کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرنے والا راوی مجہول ہے۔ امام ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ وہ مجہول راوی دراصل ابن عباس رضی اللہ عنہما کا آزاد کردہ غلام عکرمہ رضی اللہ عنہ ہی ہے۔ ¤ [الاستذكار: 271/1] اگر وہ راوی واقعی عکرمہ مولی ابن عباس رضی اللہ عنہما ہو، تب بھی یہ روایت ضعیف ہے ، کیونکہ داود بن حصین کی عکرمہ سے روایت منکر ہے۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ «دلوك الشمّس» جب ہوتا ہے کہ سایہ پلٹے پچھّم سے پورب کو، اور «غسق الليل» رات کا گزرنا اور اندھیرا اس کا۔ [موطا امام مالك: 19]
فائدہ:

جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز کا سایہ سورج کی مخالف سمت یعنی مغرب کی جانب ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ کم ہوتا چلا جاتا ہے اور جب سورج سر کے اوپر سے ہو کر مغرب کی جانب ڈھل جاتا ہے تو سایہ مشرق کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 19 سے ماخوذ ہے۔