موطا امام مالك رواية يحييٰ
— کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي دُلُوْكِ الشَّمْسِ وَ غَسَقِ اللَّيْلِ باب: «دلوکِ شمس» اور «غسق الليل» کے متعلق جو وارد ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 19
وَحَدَّثَنِي ، عَنْ وَحَدَّثَنِي ، عَنْ مَالِك ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُخْبِرٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، كَانَ يَقُولُ : " دُلُوكُ الشَّمْسِ ، إِذَا فَاءَ الْفَيْءُ وَغَسَقُ اللَّيْلِ اجْتِمَاعُ اللَّيْلِ وَظُلْمَتُهُ " علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ «دلوك الشمّس» جب ہوتا ہے کہ سایہ پلٹے پچھّم سے پورب کو، اور «غسق الليل» رات کا گزرنا اور اندھیرا اس کا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ ابو سمیعہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ «دلوك الشمّس» جب ہوتا ہے کہ سایہ پلٹے پچھّم سے پورب کو، اور «غسق الليل» رات کا گزرنا اور اندھیرا اس کا۔ [موطا امام مالك: 19]
فائدہ:
جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز کا سایہ سورج کی مخالف سمت یعنی مغرب کی جانب ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ کم ہوتا چلا جاتا ہے اور جب سورج سر کے اوپر سے ہو کر مغرب کی جانب ڈھل جاتا ہے تو سایہ مشرق کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
جب سورج طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز کا سایہ سورج کی مخالف سمت یعنی مغرب کی جانب ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ کم ہوتا چلا جاتا ہے اور جب سورج سر کے اوپر سے ہو کر مغرب کی جانب ڈھل جاتا ہے تو سایہ مشرق کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 19 سے ماخوذ ہے۔