موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّعَفُّفِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ باب: سوال سے بچنے کا بیان
حدیث نمبر: 1846
وَعَنْ مَالِكُ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ : " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ عَبْدٌ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ " . قَالَ مَالِك : لَا أَدْرِي أَيُرْفَعُ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا ؟علامہ وحید الزماں
حضرت علاء بن عبد الرحمٰن کہتے ہیں کہ صدقہ دینے سے کسی مال میں کمی و نقصان نہیں ہوا، اور جو بندہ معاف کرتا رہتا ہے اس کی عزت زیادہ ہوتی ہے، اور جو تواضع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ اور بلند کر دیتا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھ کو معلوم نہیں یہ حدیث مرفوع ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک یا نہیں۔