موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّعَفُّفِ عَنِ الْمَسْأَلَةِ باب: سوال سے بچنے کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، بِعَطَاءٍ فَرَدَّهُ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِمَ رَدَدْتَهُ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ خَيْرًا لِأَحَدِنَا أَنْ لَا يَأْخُذَ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ، فَأَمَّا مَا كَانَ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ يَرْزُقُكَهُ اللَّهُ "، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا، وَلَا يَأْتِينِي شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ إِلَّا أَخَذْتُهُ حضرت عطار بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ مال بھیجا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پھیر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے کیوں پھیر دیا؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے بہتر وہ شخص ہے جو کسی سے کچھ نہ لے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا مطلب یہ ہے کہ مانگ کر کچھ نہ لے، اور جو بن مانگے ملے وہ اللہ کا دیا ہوا ہے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اب کسی سے کچھ نہ مانگوں گا، اور جو بن مانگے میرے پاس آئے گا اس کو لے لوں گا۔