موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الصَّدَقَةِ باب: صدقے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1839
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ مِسْكِينًا سَأَلَهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ وَلَيْسَ فِي بَيْتِهَا إِلَّا رَغِيفٌ، فَقَالَتْ لِمَوْلَاةٍ لَهَا : " أَعْطِيهِ إِيَّاهُ "، فَقَالَتْ : لَيْسَ لَكِ مَا تُفْطِرِينَ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ : " أَعْطِيهِ إِيَّاهُ "، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ، قَالَتْ : فَلَمَّا أَمْسَيْنَا أَهْدَى لَنَا أَهْلُ بَيْتٍ أَوْ إِنْسَانٌ، مَا كَانَ يُهْدِي لَنَا شَاةً وَكَفَنَهَا، فَدَعَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَتْ : " كُلِي مِنْ هَذَا، هَذَا خَيْرٌ مِنْ قُرْصِكِ " علامہ وحید الزماں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک فقیر آیا مانگتا ہوا، اور آپ رضی اللہ عنہا روزہ دار تھیں، اور گھر میں کچھ نہ تھا سوائے ایک روٹی کے، آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی سے کہا: یہ روٹی فقیر کو دیدے۔ وہ بولی: آپ کے افطار کے لئے کچھ نہیں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے کہا: دیدے۔ لونڈی نے وہ روٹی فقیر کہ حوالے کر دی۔ شام کو ایک گھر سے حصّہ آیا بکری کا گوشت پکا ہوا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے لونڈی کو بلا کر کہا: کھا یہ تیری روٹی سے بہتر ہے۔