موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَذَابِ الْعَامَّةِ بِعَمَلِ الْخَاصَّةِ باب: چند آدمیوں کے گناہ کی وجہ سے ساری خلقت کے تباہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1827
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ : " كَانَ يُقَالُ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يُعَذِّبُ الْعَامَّةَ بِذَنْبِ الْخَاصَّةِ، وَلَكِنْ إِذَا عُمِلَ الْمُنْكَرُ جِهَارًا اسْتَحَقُّوا الْعُقُوبَةَ كُلُّهُمْ " علامہ وحید الزماں
حضرت عمر بن عبدالعزیز کہتے تھے کہ اللہ جل جلالہُ کسی خاص شخصوں کے گناہ کے سبب عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہ کرے گا، مگر جب گناہ کی بات اعلانیہ کی جائے گی تو سب کے سب عذاب کے لائق ہوں گے۔