موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي إِضَاعَةِ الْمَالِ ، وَذِي الْوَجْهَيْنِ باب: مال کو برباد کر نے کا (یعنی اسراف کا) اور ذوالوجہین (دوغلے ) کا بیان
حدیث نمبر: 1825
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ : الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت برا سب آدمیوں میں ذوالوجہین (دوغلا) ہے، جو ایک گروہ کے پاس جائے وہاں انہی کی سی بات کہہ دے، جب دوسرے گروہ میں آئے وہاں اُن کی بات کہے۔“