موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ باب: سچ اور جھوٹ کا بیان
حدیث نمبر: 1819
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْذِبُ امْرَأَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا خَيْرَ فِي الْكَذِبِ "، فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعِدُهَا وَأَقُولُ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا جُنَاحَ عَلَيْكَ " علامہ وحید الزماں
حضرت صفوان بن سلیم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں اپنی عورت سے جھوٹ بولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جھوٹ بولنا اچھا نہیں ہے اور اس میں کچھ بھلائی و خیر نہیں ہے۔“ پھر وہ شخص بولا: میں اپنی عورت سے وعدہ کروں اور اس سے کہوں میں تیرے لیے یوں کر دوں گا، یہ بنا دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کچھ گناہ نہیں ہے۔“