موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُنَاجَاةِ اثْنَيْنِ دُونَ وَاحِدٍ باب: دو آدمی ایک کو چھوڑ کر کانا پھوسی اور سرگو شی نہ کریں
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عِنْدَ دَارِ خَالِدِ بْنِ عُقْبَةَ الَّتِي بِالسُّوقِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ، وَلَيْسَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُ الرَّجُلِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يُنَاجِيَهُ، فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَجُلًا آخَرَ حَتَّى كُنَّا أَرْبَعَةً، فَقَالَ لِي وَلِلرَّجُلِ الَّذِي دَعَاهُ : اسْتَأْخِرَا شَيْئًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ " حضرت عبداللہ بن دینار سے روایت ہے (کہتے ہیں کہ): میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خالد بن عقبہ کے گھر کے پاس تھے جو بازار میں تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کان میں کچھ کہنا چاہا، اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوائے میرے اور اس شخص کے جو کان میں کہنے کو آیا تھا اور کوئی نہ تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک اور شخص کو بلایا، اب ہم چار آدمی ہو گئے، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ کو اور چوتھے شخص کو کہا: ذرا ہٹ جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”دو آدمی ایک کو اکیلا چھوڑ کر کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں، اس سے تیسرے آدمی کو رنج ہوتا ہے۔“