حدیث نمبر: 1812
وَحَدَّثَنِي مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، كَانَ يَقُولُ : لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ، فَإِنَّ الْقَلْبَ الْقَاسِيَ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ وَلَا تَنْظُرُوا فِي ذُنُوبِ النَّاسِ كَأَنَّكُمْ أَرْبَاب، وَانْظُرُوا فِي ذُنُوبِكُمْ كَأَنَّكُمْ عَبِيدٌ، فَإِنَّمَا النَّاسُ مُبْتَلًى وَمُعَافًى فَارْحَمُوا أَهْلَ الْبَلَاءِ وَاحْمَدُوا اللَّهَ عَلَى الْعَافِيَةِ
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: مت باتیں کرو بے کار سوائے یادِ الہٰی کے کہ کہیں سخت ہو جائیں دل تمہارے، اور سخت دل دور ہے اللہ سے لیکن تم نہیں سمجھتے۔ اور مت دیکھو دوسروں کے گناہ کو گویا تم ہی رب ہو، اپنے گناہوں کو دیکھو اپنے تئیں بندہ سمجھ کر، کیونکہ لوگوں میں سب طرح کے لوگ ہیں، بعض بیمار ہیں بعض اچھے ہیں۔ تو رحم کرو بیماروں پر اور اللہ کا شکر کرو اپنی تندرستی پر۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1812
درجۂ حدیث محدثین: مقطوع ضعيف
تخریج حدیث «مقطوع ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 5023، أبو نعيم فى «حلية الاولياء» برقم:328/6، وابن عساكر فى «تاريخ دمشق» برقم:309/50، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31870، 34219، فواد عبدالباقي نمبر: 56 - كِتَابُ الْكَلَامِ-ح: 8»