موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ التَّحَفُّظِ فِي الْكَلَامِ باب: بات سمجھ بوجھ کر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1810
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَهْوِي بِهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يُلْقِي لَهَا بَالًا، يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا فِي الْجَنَّةِ " علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آدمی بے سمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جہنم میں جاتا ہے، اور آدمی بن سمجھے بوجھے ایک بات کہہ دیتا ہے جس سے وہ جنت میں جاتا ہے۔