موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْكَلَامِ باب: بری بات چیت کا بیان
حدیث نمبر: 1808
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، " أَنّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ لَقِيَ خِنْزِيرًا بِالطَّرِيقِ، فَقَالَ لَهُ : انْفُذْ بِسَلَامٍ، فَقِيلَ لَهُ : تَقُولُ هَذَا لِخِنْزِيرٍ، فَقَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ : إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُعَوِّدَ لِسَانِي الْمَنْطِقَ بِالسُّوءِ " علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے ایک سور (خنزیر) آیا راہ میں، آپ علیہ السلام نے فرمایا: چلا جا سلامتی سے۔ لوگوں نے کہا: آپ سور (خنزیر) سے اس طرح فرماتے ہیں؟ (یعنی اس کو دھتکارتے نہیں؟ سخت سست نہیں کہتے؟ جیسا کہ لوگوں کی عادت ہے)۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری زبان کو بُری بات چیت کی عادت نہ ہو جائے۔