حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ : " دُلُوكُ الشَّمْسِ مَيْلُهَا "
علامہ وحید الزماں

حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ «دلوك الشمّس» سے آفتاب کا ڈھلنا مراد ہے۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 18
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 18، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 1678،1704،1708، 1734، والبزار فى «مسنده» برقم: 6015، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2052، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6330، 6335، شركة الحروف نمبر: 16، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 19» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح کہا ہے اور اس کی سند شیخین کی شرط پر ہے۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ «دلوك الشمّس» سے آفتاب کا ڈھلنا مراد ہے۔ [موطا امام مالك: 18]
«دُلُوكِ شمس» (سورج کے ڈھلنے) اور «غَسَقُ اللَّيْل» (رات کے اندھیرے) کی تفسیر میں آنے والے اقوال کا بیان:

فائدہ:

اس باب میں امام مالک رحمہ اللہ اس آیتِ مبارکہ کے متعلق کچھ تفسیری اقوال ذکر کر رہے ہیں جس میں بڑے اختصار اور جامعیت کے ساتھ اوقاتِ نماز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، آیت یہ ہے: «اَقِمِ الصَّلاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غسَلق اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ» [بنى اسرائيل 17: 78]

سورج ڈھلنے سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کیجیے اور نمازِ فجر بھی۔

اس آیت مبارکہ میں سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک میں چار نمازوں کی طرف اشارہ اور اکٹھا تذکرہ ہے، کیونکہ فجر کے علاوہ باقی چاروں نمازوں کے اوقات ایک دوسرے سے متصل ہیں، ایک نماز کا وقت ختم ہوتے ہی دوسری کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ نصف رات تک جاری رہتا ہے اور چونکہ نماز فجر کا وقت کسی دوسری نماز کے ساتھ متصل نہیں ہے، نہ پہلے اور نہ بعد میں، اس لیے اللہ تعالی نے اس کا تذکرہ بھی الگ فرمایا، اور پھر چونکہ یہ نماز لمبی قراءت کے ساتھ ممتاز ہے اس لیے اس نماز کا نام ہی قرآن (بمعنی قراءت) رکھ دیا اور «صلاة الفجر» کہنے کی بجائے «قرآن الفجر» کے نام سے ذکر فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 18 سے ماخوذ ہے۔