موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ الْعَمَلِ فِي السَّفَرِ باب: سفر کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 1795
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، يَرْفَعُهُ : " إِنّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيَرْضَى بِهِ وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَى الْعُنْفِ، فَإِذَا رَكِبْتُمْ هَذِهِ الدَّوَابَّ الْعُجْمَ، فَأَنْزِلُوهَا مَنَازِلَهَا، فَإِنْ كَانَتِ الْأَرْضُ جَدْبَةً فَانْجُوا عَلَيْهَا بِنِقْيِهَا، وَعَلَيْكُمْ بِسَيْرِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ مَا لَا تُطْوَى بِالنَّهَارِ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى الطَّرِيقِ، فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ وَمَأْوَى الْحَيَّاتِ "علامہ وحید الزماں
حضرت خالد بن معدان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جل جلالہُ نرمی کرتا ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے، اور خوش ہوتا ہے، اور مدد کرتا ہے نرمی پر وہ جو نہیں کرتا سختی پر، جب تم چڑھو ان بے زبان جانوروں پر تو اتارو ان کو ان کی منزلوں پر۔ اگر زمین صاف ہو جہاں گھاس نہ ہو تو جلدی سے نکال لے جاؤ تاکہ اس میں گودا رہے۔ اور لازم کر لو رات کا چلنا کیونکہ رات کے چلنے میں جیسے راہ کٹتی ہے ویسی دن کو نہیں کٹتی، تو رات کو جب اترو تو راستے میں نہ اترو، کیونکہ وہاں جانور آتے جاتے ہیں اور سانپ بھی رہا کرتے ہیں۔“