موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَمَا يُقَالُ فِي ذَلِكَ باب: سانپوں کے مارنے کا بیان اور سانپوں کا حال
حدیث نمبر: 1788
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِعَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ، إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ " علامہ وحید الزماں
حضرت سائبہ جو مولاۃ ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی، ان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ان سانپوں کے مارنے سے جو گھر میں ہوتے ہیں، مگر ذی الطفیتین اور ابتر کو کہ وہ آنکھ کو اندھا کر دیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں۔