موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ وَأُجْرَةِ الْحَجَّامِ باب: پچھنے لگانا اور اس کی مزدوری کا بیان
حدیث نمبر: 1784
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ مُحَيِّصَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَحَدِ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ، حَتَّى قَالَ : " اعْلِفْهُ نُضَّاحَكَ " يَعْنِي رَقِيقَكَ علامہ وحید الزماں
سیدنا ابن محیصہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حجام کی اجرت کو اپنے خرچ میں لانا کیسا ہے؟ (کیونکہ ان کے غلام ابو طیبہ حجام تھے وہ چاہتے تھے اس کی کمائی کھائیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا (مگر یہ ممانعت تنزیہاً ہے اکثر علماء کے نزدیک)۔ وہ ہمیشہ پوچھا کر تے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی کمائی اپنے اونٹوں اور غلاموں کی خوراک میں صرف کر۔“