موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْأَسْمَاءِ باب: جو نام برے ہیں ان کا بیان
حدیث نمبر: 1781
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ لِرَجُلٍ : " مَا اسْمُكَ ؟ " فَقَالَ : جَمْرَةُ، فَقَالَ : " ابْنُ مَنْ ؟ " فَقَالَ : ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ : " مِمَّنْ ؟ " قَالَ : مِنْ الْحُرَقَةِ، قَالَ : " أَيْنَ مَسْكَنُكَ ؟ " قَالَ : بِحَرَّةِ النَّارِ، قَالَ : " بِأَيِّهَا ؟ " قَالَ : بِذَاتِ لَظًى، قَالَ عُمَرُ : " أَدْرِكْ أَهْلَكَ فَقَدِ احْتَرَقُوا "، قَالَ : فَكَانَ كَمَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ وہ بولا: جمرہ (انگارہ)، انہوں نے پوچھا: باپ کا نام؟ کہا: شہاب (شعلہ)، پوچھا: کہاں رہتا ہے؟ کہا: حرۃ النار میں، پوچھا: کون سی جگہ میں؟ کہا: ذات لظی میں، (ان کے معنی بھی شعلے اور دہکتی آگ کے ہیں)، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جا اپنے لوگوں کی خبر لے، وہ سب جل گئے۔ راوی نے کہا: جب وہ شخص گیا تو دیکھا یہی حال تھا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا (یعنی سب جل گئے تھے)۔