موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا يُنَّقَى مِنَ الشُّؤْمِ باب: جس کی نحوست سے بچنا چاہیے
حدیث نمبر: 1779
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ دَارٌ سَكَنَّاهَا وَالْعَدَدُ كَثِيرٌ، وَالْمَالُ وَافِرٌ فَقَلَّ الْعَدَدُ وَذَهَبَ الْمَالُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهَا ذَمِيمَةً " علامہ وحید الزماں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک عورت آئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، بولی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایک گھر تھا جس میں ہم جاکر رہے ہیں، ہماری گنتی بھی زیادہ تھی، اور مال بھی تھا، پھر گنتی بھی کم ہوگئی (یعنی لوگ مر گئے) اور مال میں بھی نقصان ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑ دے تو اس (گھر) کو (جبکہ تو اس کو) بُرا (جانتی ہے)۔“