موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبِّ باب: گوہ (سوسمار) کھانے کا بیان
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ : أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، فَقِيلَ : هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقُلْتُ : أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ "، قَالَ خَالِدٌ : فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ سیدنا خالد بن ولید بن مغیرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُم المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گئے، وہاں ایک گوہ (سوسمار) بھنا ہوا آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ اٹھایا کھانے کو، عورتوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو جس کا یہ گوشت ہے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ گوہ (سوسمار) کا گوشت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچ لیا، میں نے کہا: کیا حرام ہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا، اس واسطے مجھے اس کے کھانے سے کراہت آتی ہے۔“ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کو اپنی طرف کھینچ کر کھایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔