موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصُّوَرِ وَالتَّمَاثِيلِ باب: تصویروں اور مورتیوں کا بیان
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، قَالَ : فَوَجَدَ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا مِنْ تَحْتِهِ، فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ : لِمَ تَنْزِعُهُ ؟ قَالَ : " لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ "، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَقَالَ سَهْلٌ : أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ "، قَالَ : بَلَى وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي حضرت عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی عیادت کو گئے، وہاں سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو بھی دیکھا۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو بلایا اور کہا: میرے نیچے سے شطرنجی نکال لے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں؟ سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میں تصویریں ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویروں کے بارے میں جو ارشاد فرمایا ہے وہ تم کو معلوم ہے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اگر نقشی ہو کپڑے وغیرہ پر تو کچھ قباحت نہیں۔“ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ سچ ہے، مگر میری خوشی یہی ہے کہ ہر قسم کی تصویر سے پرہیز کروں۔