موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ التَّشْمِيتِ فِي الْعُطَاسِ باب: چھینک کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1760
حَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ، ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ، ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَشَمِّتْهُ، ثُمَّ إِنْ عَطَسَ فَقُلْ : إِنَّكَ مَضْنُوكٌ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : لَا أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِعلامہ وحید الزماں
محمد بن عمرو بن حزم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص چھینکے تو اس کا جواب دو (یعنی جب وہ الحمد للہ کہے تو یرحمک اللہ کہو)، پھر اگر چھینکے تو جواب دو، پھر اگر چھینکے تو جواب دو، پھر اگر چھینکے تو کہہ دو: تجھے زکام ہو گیا۔“ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا: معلوم نہیں کہ تیسری کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا، یا چوتھی کے بعد۔