موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ السَّلَامِ باب: سلام کی مختلف احادیث کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَلَّمَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَالْغَادِيَاتُ وَالرَّائِحَاتُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " وَعَلَيْكَ أَلْفًا "، ثُمَّ كَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سلام کیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو تو کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ والغادیات والرائحات (سلامتی ہو تم پر اور اللہ کی رحمت اور برکات اور صبح اور شام کی نعمتیں آنے والیں اور جانے والیں)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: وعلیک الفاً (تیرے اوپر بھی ہزار گنے اس کے)، اور اس طرح کہا جیسے کہ اس کو برا جانا۔
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ : إِذَا دُخِلَ الْبَيْتُ غَيْرُ الْمَسْكُونِ، يُقَالُ : السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَامام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ جب کوئی آدمی ایسے گھر میں جائے جو خالی پڑا ہو تو کہے السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین، یعنی: سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔