موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّلَامِ عَلَى الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ باب: یہودی اور نصرانی کے سلام کا بیان
حدیث نمبر: 1752
حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ " الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ، فَإِنَّمَا يَقُولُ : السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُلْ : عَلَيْكَ " .علامہ وحید الزماں
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی جب تم کو سلام کرتے ہیں تو السلام علیکم کے بدلے السام علیکم (یعنی موت ہو تم پر) کہتے ہیں، تم بھی علیک کہا کرو۔“ (یعنی جواب میں صرف علیک کہدیا کرو یعنی تو ہی مرے)۔
قَالَ يَحْيَى : وَسُئِلَ مَالِك عَمَّنْ سَلَّمَ عَلَى الْيَهُودِيِّ أَوِ النَّصْرَانِيِّ هَلْ يَسْتَقِيلُهُ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : لَاعلامہ وحید الزماں
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ یہودی اور نصرانی سے کوئی سلام کرے یعنی السلام وعلیکم کہہ دے تو پھر اس کو فسخ کرے؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ توبہ اور استغفار کرے، کیونکہ خلاف حکم کیا۔