حدیث نمبر: 1749
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ " إِذَا وَجَدَ أَحَدًا مِنْ أَهْلِهِ يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ضَرَبَهُ وَكَسَرَهَا " .
علامہ وحید الزماں

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب اپنے گھر والوں میں سے کسی کو شطرنج (یا چوسر) کھیلتے دیکھتے تو اس کو مارتے اور شطرنج کو توڑ ڈالتے۔

قَالَ يَحْيَى : وَسَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ : لَا خَيْرَ فِي الشَّطْرَنْجِ وَكَرِهَهَا، وَسَمِعْتُهُ يَكْرَهُ اللَّعِبَ بِهَا وَبِغَيْرِهَا مِنَ الْبَاطِلِ، وَيَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ : فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلا الضَّلالُ سورة يونس آية 32
علامہ وحید الزماں

کہا یحییٰ نے: سنا میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے: شطرنج کھیلنا بہتر نہیں ہے، نہ اس میں کوئی فائدہ و بھلائی ہے، اور مکروہ جانتے تھے اس کو۔ اور سنا میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے: کہتے تھے: شطرنج کھیلنا اور لغو بیہودہ کھیل سب مکروہ ہیں، اور پڑھتے تھے اس آیت کو «﴿فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ﴾ [يونس : 32]» ”پس کیا ہے بعد حق کے سوائے گمراہی کے۔“

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1749
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح، وأخرجه بخاري فى «الادب المفرد» برقم: 1273، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 21019، 21020، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 6506، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26675، فواد عبدالباقي نمبر: 52 - كِتَابُ الرُّؤْيَا-ح: 7»