موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّرْدِ باب: چوسر یا شطرنج کا بیان
حدیث نمبر: 1748
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ بَلَغَهَا : أَنَّ أَهْلَ بَيْتٍ فِي دَارِهَا كَانُوا سُكَّانًا فِيهَا وَعِنْدَهُمْ نَرْدٌ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ : " لَئِنْ لَمْ تُخْرِجُوهَا لَأُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ دَارِي "، وَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ علامہ وحید الزماں
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے گھر میں کچھ لوگ رہا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ان کے پاس شطرنج (یا چوسر) ہے، تو کہلا بھیجا کہ شطرنج کو تم دور کر دو میرے گھر سے، نہیں تو میں تم کو اپنے گھر سے نکال دوں گا، اور برا جانا اس کو۔