موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ التَّعَوُّذِ عِنْدَ النَّوْمِ باب: سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَنَّ كَعْبَ الْأَحْبَارِ ، قَالَ : " لَوْلَا كَلِمَاتٌ أَقُولُهُنَّ لَجَعَلَتْنِي يَهُودُ حِمَارًا "، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا هُنَّ ؟ فَقَالَ : " أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ، وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، وَبِأَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَأَ " حضرت قعقاع بن حکیم سے روایت ہے کہ کعب الاحبار (بڑے عالم تھے یہودیوں کے پھر مسلمان ہو گئے) نے کہا: اگر میں چند کلمات نہ پڑھا کرتا تو یہودی (جادو کر کے) مجھے گدھا بنا دیتے۔ لوگوں نے پوچھا: وہ کلمات کیا ہیں؟ کعب نے کہا: «أَعُوذُ بِوَجْهِ اللّٰهِ الْعَظِيمِ ......» یعنی: ”میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے منہ (یعنی ذات) سے جو بڑی عظمت والا ہے، نہیں ہے کوئی چیز عظمت میں اس سے بڑھ کر، اور اس اللہ کے پورے کلمات سے جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا (یعنی ان سے زیادہ علم نہیں رکھتا)، اور اس اللہ کے تمام اسمائے حسنیٰ (اچھے ناموں) سے جن کو میں جانتا ہوں، اور جن کو میں نہیں جانتا، اس چیز کے شر سے جس کو اس نے بنایا، پیدا کیا اور پھیلایا۔“