موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ التَّعَوُّذِ عِنْدَ النَّوْمِ باب: سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
حدیث نمبر: 1734
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ، قَالَ : مَا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ؟ " فَقَالَ : لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ " علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی قبیلہ اسلم کا بولا: میں رات کو نہیں سویا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیوں کس وجہ سے؟“ وہ بولا: مجھے بچھو نے کاٹا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو شام کے وقت یہ کہہ لیتا «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» یعنی: پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلمات سے ان چیزوں کے شر سے جن کو پیدا کیا اس نے۔ تو بچھو تجھے کچھ نقصان نہ دیتا۔“