موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنَ التَّعَوُّذِ عِنْدَ النَّوْمِ باب: سوتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ يَطْلُبُهُ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ، كُلَّمَا الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ، فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ : أَفَلَا " أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ إِذَا قُلْتَهُنَّ طَفِئَتْ شُعْلَتُهُ وَخَرَّ لِفِيهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَلَى "، فَقَالَ جِبْرِيلُ : فَقُلْ أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْكَرِيمِ، وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ اللَّاتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ، مِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَشَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا، وَشَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ " یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات معراج ہوئی ایک دیو نظر آیا، گویا اس کے ایک ہاتھ میں ایک شعلہ تھا آگ کا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نگاہ کرتے تو اس کو دیکھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا آتا تھا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: ”میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چند کلمات سکھا دوں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو فرمائیں تو ان کا شعلہ بجھ جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، سکھاؤ۔“ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”کہو! « أَعُوذُ بِوَجْهِ اللّٰهِ الْكَرِيمِ ....» یعنی: پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے منہ (یعنی ذات) سے جو بڑا عزت والا ہے، اور اس کے کلمات سے جو پورے ہیں، جن سے کوئی نیک یا بد آگے نہیں بڑھ سکتا (یعنی ان سے زیادہ علم نہیں رکھتا)، برائی سے اس چیز کی جو آسمان سے اترے، اور جو آسمان کی طرف چڑھے، اور برائی سے ان چیزوں کی جن کو پیدا کیا ہے اس نے زمین میں، اور جو نکلے زمین سے، اور رات دن کے فتنوں سے، اور شب و روز کی آفتوں سے، اور حادثوں سے، مگر جو حادثہ بہتر ہے اے رحمٰن۔“