موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي صَبْغِ الشَّعَرِ باب: بالوں کے رنگنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي، عَنْ حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، قَالَ وَكَانَ جَلِيسًا لَهُمْ وَكَانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ وَالرَّأْسِ، قَالَ : فَغَدَا عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ حَمَّرَهُمَا، قَالَ : فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ : هَذَا أَحْسَنُ، فَقَالَ : إِنَّ " أُمِّي عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيَّ الْبَارِحَةَ جَارِيَتَهَا نُخَيْلَةَ، فَأَقْسَمَتْ عَلَيَّ لَأَصْبُغَنَّ، وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَانَ يَصْبُغُ " .حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن اسود ان کا ہم صحبت تھا، اوراس کے سر اور ڈاڑھی کے بال سب سفید تھے، ایک روز صبح کو آیا اپنے بالوں پر سرخ خضاب لگا کر، تو لوگوں نے کہا: اچھا ہے، وہ بولا: میری ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہلا بھیجا نخیلہ اپنی لونڈی کے ہاتھ قسم دے کر کہ تو اپنے بالوں پر خضاب لگا، اور بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی خضاب لگایا کرتے تھے۔
قَالَ يَحْيَى : سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ فِي صَبْغِ الشَّعَرِ بِالسَّوَادِ : لَمْ أَسْمَعْ فِي ذَلِكَ شَيْئًا مَعْلُومًا، وَغَيْرُ ذَلِكَ مِنَ الصِّبْغِ أَحَبُّ إِلَيَّ، قَالَ : وَتَرْكُ الصَّبْغِ كُلِّهِ وَاسِعٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى النَّاسِ فِيهِ ضِيقٌ . قَالَ : وَسَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : بَيَانُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصْبُغْ وَلَوْ صَبَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَأَرْسَلَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ .امام ما لک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سیاہ خضاب میں، میں نے کوئی حدیث نہیں سنی، اور سوائے سیاہ کے اور کوئی رنگ بہتر ہے، اور خضا ب نہ کرنا بہت بہتر ہے اگر اللہ چاہے، اور لوگوں پر اس بارے میں کچھ تنگی نہیں ہے۔
امام ما لک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب نہیں لگایا، اگر لگایا ہوتا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عبدالرحمٰن کے پاس یہی کہلا بھیجتیں۔