موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَالطِّيَرَةِ باب: بیمار پرسی اور فال بد کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ ابْنِ عَطِيَّةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَ وَلَا صَفَرَ، وَلَا يَحُلَّ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ، وَلْيَحْلُلِ الْمُصِحُّ حَيْثُ شَاءَ "، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ذَاكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ أَذًى " سیدنا ابن عطیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ہے عدویٰ (یعنی چھوت، ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانا)، اور نہ ہام (اُلّو جس کو لوگ منحوس سمجھتے ہیں، یا مردے کی روح جانور کی شکل)، اور نہ صفر کا مہینہ (جس کو لوگ منحوس جانتے ہیں، تیرہ تیزی میں کوئی کام کرنا بہتر نہیں جانتے)، لیکن بیمار اونٹ تندرست اونٹ کے پاس نہ اتارا جائے، البتہ جس شخص کا اونٹ اچھا ہو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے اترے۔“ لوگوں نے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرض سے نفرت ہوتی ہے، یا تکلیف ہوتی ہے۔“