موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَجْرِ الْمَرِيضِ باب: بیمار کے ثواب کا بیان
حَدَّثَنِي، عَنْ حَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ، فَقَالَ : " انْظُرَا مَاذَا يَقُولُ لِعُوَّادِهِ ؟ " فَإِنْ هُوَ إِذَا جَاءُوهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، رَفَعَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ، فَيَقُولُ : " لِعَبْدِي عَلَيَّ إِنْ تَوَفَّيْتُهُ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَإِنْ أَنَا شَفَيْتُهُ أَنْ أُبْدِلَ لَهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ، وَأَنْ أُكَفِّرَ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ " حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے، اور فرماتا ہے کہ دیکھتے رہو وہ کیا کہتا ہے ان لوگوں سے جو اس کی بیمار پرسی کو آتے ہیں۔ اگر وہ ان کے سامنے اللہ جل جلالہُ کی تعریف اور ستائش کرتا ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اللہ جل جلالہُ کے پاس، اور وہ خوب جانتا ہے مگر پوچھتا ہے، بعد اس کے فرماتا ہے: اگر میں اپنے بندے کو اپنے پاس بلا لوں گا تو اس کو جنت میں داخل کروں گا، اور جو شفا دوں گا تو پہلے سے اس کو زیادہ گوشت اور خون عنایت کروں گا، اور اس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا۔“