موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الْعَيْنِ باب: جس کو نظر لگ جائے اس کو وضو کرانے کا بیان
وَحَدَّثَنِي مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ : رَأَى عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ : مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخْبَأَةٍ، فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ؟ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَقَالَ : " هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا ؟ " قَالُوا : نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ : " عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ؟ أَلَّا بَرَّكْتَ اغْتَسِلْ لَهُ "، فَغَسَلَ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ، وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ (یعنی اسعد) سے روایت ہے کہ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو نہاتے ہوئے دیکھ لیا تو کہا: میں نے آپ کا سا کوئی آدمی نہیں دیکھا، نہ کسی پردہ نشین (بالکل باہر نہ نکلنے والی) عورت کی ایسی کھال دیکھی۔ یہ کہتے ہی سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے (بیمار ہوکر) گر پڑے۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر بیان کیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی خبر بھی لیتے ہیں، قسم اللہ کی! وہ اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری دانست میں کس نے اس کو نظر لگائی؟“ انہوں نے کہا: سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اس پر غصے ہوئے، اور فرمایا: ”کیوں قتل کرتا ہے ایک تم میں سے اپنے بھائی کو؟ تو نے «بَارَكَ اللّٰهُ» کیوں نہ کہا؟ اب غسل کر اس کے واسطے۔“ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ نے اپنے منہ، اور ہاتھ، اور کہنیاں، اور گھٹنے، اور پاؤں کے کنارے، اور تہ بند کے نیچے کا بدن پانی سے دھو کر اس پانی کو ایک برتن میں جمع کیا، وہ پانی سیدنا سہل رضی اللہ عنہ پر ڈالا گیا، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اچھے ہو گئے اور لوگوں کے ساتھ چلے۔