حدیث نمبر: 17
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، أَنَّهُ بَلَغَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يَقُولُ : " مَنْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ فَقَدْ أَدْرَكَ السَّجْدَةَ ، وَمَنْ فَاتَهُ قِرَاءَةُ أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَدْ فَاتَهُ خَيْرٌ كَثِيرٌ "
علامہ وحید الزماں

امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے پہنچا سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، فرماتے تھے: جس شخص نے رکوع پا لیا تو اس نے سجدہ پایا یعنی وہ رکعت پائی، اور جس کو سورۂ فاتحہ پڑھنا نہ ملا تو اس کی بہت خیر جاتی رہی۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / حدیث: 17
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 2583، شركة الحروف نمبر: 15، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 18» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں انقطاع ہے۔

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ ابو سمیعہ
امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے پہنچا سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، فرماتے تھے: جس شخص نے رکوع پا لیا تو اس نے سجدہ پایا یعنی وہ رکعت پائی، اور جس کو سورۂ فاتحہ پڑھنا نہ ملا تو اس کی بہت خیر جاتی رہی۔ [موطا امام مالك: 17]
فائدہ:

یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ «جزء القراءة خلف الامام» میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ نقل فرمایا ہے: «إِذَا أَدْرَكْتَ الْقَوْمَ رُكُوعًا لَمْ يُعْتَدَّ بِتِلْكَ الرَّكْعَةِ» [نيل الاوطار: 40/2]

جب تو لوگوں کو حالت رکوع میں پالے تو (پھر بھی) وہ رکعت شمار نہ کی جائے گی۔

امام بخاری رحمہ اللہ اپنے اس رسالے میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ جو لوگ قراءت خلف الامام کے وجوب کے قائل ہیں اُن تمام کا یہی موقف ہے اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے بھی اور امام تقی الدین سبکی رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، [مزيد تفصيل كے ليے ديكهيے: نيل الاوطار: 41/2، 42، المحلى بالآثار: 274/2، الروضة الندية: 326/1]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 17 سے ماخوذ ہے۔