حدیث نمبر: 1693
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَأْكُلُ خُبْزًا بِسَمْنٍ، فَدَعَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَتَّبِعُ بِاللُّقْمَةِ وَضَرَ الصَّحْفَةِ، فَقَالَ عُمَرُ : " كَأَنَّكَ مُقْفِرٌ ؟ " فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أَكَلْتُ سَمْنًا وَلَا لُكْتُ أَكْلًا بِهِ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عُمَرُ : " لَا آكُلُ السَّمْنَ حَتَّى يَحْيَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا يَحْيَوْنَ "
علامہ وحید الزماں

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روٹی گھی سے لگا کر کھا رہے تھے، ایک بدو آیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو بلایا، وہ بھی کھانے لگا اور روٹی کے ساتھ جو گھی کا میل کچیل پیالے میں لگ رہا تھا وہ بھی کھانے لگا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بڑا ندیدہ ہے (یعنی تجھ کو سالن میسر نہیں ہوا)۔ اس نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اتنی مدت سے گھی نہیں کھایا، نہ اس کے ساتھ کھاتے دیکھا (اس وجہ سے کہ اس زمانے میں ایک مدت سے قحط تھا، لوگ تکلیف میں مبتلا تھے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی گھی نہ کھاؤں گا جب تک کہ لوگوں کی حالت پہلے کی سی نہ ہو جائے (یعنی قحط جاتا رہے اور ارزانی ہو جائے)۔

حوالہ حدیث موطا امام مالك رواية يحييٰ / كتاب الجامع / حدیث: 1693
درجۂ حدیث محدثین: موقوف ضعيف
تخریج حدیث «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 5682، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34453، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 29»