موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ باب: کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَوَجَدَ فِيهِ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُمَا، فَقَالَا : أَخْرَجَنَا الْجُوعُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا أَخْرَجَنِي الْجُوعُ "، فَذَهَبُوا إِلَى أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الْأَنْصَارِيِّ، فَأَمَرَ لَهُمْ بِشَعِيرٍ عِنْدَهُ يُعْمَلُ وَقَامَ يَذْبَحُ لَهُمْ شَاةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَكِّبْ عَنْ ذَاتِ الدَّرِّ "، فَذَبَحَ لَهُمْ شَاةً وَاسْتَعْذَبَ لَهُمْ مَاءً، فَعُلِّقَ فِي نَخْلَةٍ، ثُمَّ أُتُوا بِذَلِكَ الطَّعَامِ، فَأَكَلُوا مِنْهُ وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتُسْأَلُنَّ عَنْ نَعِيمِ هَذَا الْيَوْمِ " امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا (مسلم اور اصحابِ سنن نے اس کو متصلاً روایت کیا ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے، وہاں سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کو پایا، ان سے پوچھا: ”تم کیسے آئے؟“ انہوں نے کہا: بھوک کی وجہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی اسی سبب سے نکلا۔“ پھر تینوں آدمی سیدنا ابو الہیثم ابن تیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے جو کی روٹی پکانے کا حکم کیا اور ایک بکری ذبح کر نے پر مستعد ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ والی کو چھوڑ دے۔“ انہوں نے دوسری بکری ذبح کی اور میٹھا پانی مشک میں بھر کر درخت سے لٹکا دیا، پھر کھانا آیا تو سب نے کھایا اور وہی پانی پیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی نعیم (نعمت) ہے، جس کے بارے میں پوچھے جاؤ گے تم اس (قیامت کے) روز۔“