موطا امام مالك رواية يحييٰ
كتاب الجامع— کتاب: مختلف ابواب کے بیان میں
بَابُ جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ باب: کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ إِذْ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا، فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ وَخَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللّٰهِ، وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ : ” فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ.“سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص راستہ میں جا رہا تھا، اس کو بہت شدّت سے پیاس لگی، تو اس نے ایک کنواں دیکھا، اس میں اتر کر پانی پیا، جب کنوئیں سے نکلا تو دیکھا ایک کُتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس نے سوچا اس کا بھی پیاس کی وجہ سے میری طرح حال ہوگا، پھر اس نے کنوئیں میں اُتر کر اپنے موزے میں پانی بھرا اور منہ میں اس کو دبا کر اوپر چڑھا اور کُتے کو پانی پلایا، اللہ جل جلالہُ اس سے خوش ہو گیا اور اس کو بخش دیا۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم کو جانوروں کے پانی پلانے میں بھی ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، ہر جاندار جگر میں ثواب ہے۔“